کتاب امید کا سفر کی پذیرائی — شکر، محبت اور عزمِ مسلسل
الحمدللہ، جب سے میری کتاب “امید کا سفر” منظرِ عام پر آئی ہے، معاشرے کے مختلف طبقات سے جس محبت، احترام اور پذیرائی نے مجھے گھیر لیا ہے، وہ میرے لیے حقیقت میں اللہ تعالیٰ کی ایک بڑی نعمت اور کرم نوازی ہے۔ انسان کی زندگی میں بعض لمحات ایسے ہوتے ہیں جو اس کے دل پر ہمیشہ کے لیے نقش ہو جاتے ہیں، اور میری کتاب کی کامیابی اور اس پر ملنے والی محبت انہی انمول لمحات میں سے ہیں۔ میں دل کی گہرائیوں سے اپنے ربِ کریم کا شکر ادا کرتا ہوں جس نے مجھے یہ موقع عطا فرمایا کہ میں اپنے احساسات، تجربات اور مشاہدات کو لفظوں کی شکل دے کر معاشرے تک پہنچا سکا۔
کتاب لکھنا محض الفاظ کو کاغذ پر منتقل کر دینا نہیں ہوتا، بلکہ یہ ایک روحانی اور فکری سفر ہوتا ہے۔ اور جب یہ سفر دوسروں کے دلوں تک رسائی پاتا ہے تو مصنف کی محنت کو حقیقی معنی ملتے ہیں۔ مجھے بے شمار لوگوں نے مبارک باد دی، حوصلہ افزائی کی، دعائیں دیں اور مجھے خراجِ تحسین پیش کیا۔ میں ان تمام چاہنے والوں کا تہہ دل سے شکر گزار ہوں جنہوں نے میری کتاب کو نہ صرف پڑھا بلکہ اس کو محسوس بھی کیا۔ ان کی آراء، محبت اور اعتماد نے میری ذمہ داری میں اور اضافہ کر دیا ہے۔
ہر پیغام، ہر فون کال، ہر ملاقات اور ہر سوشل میڈیا تبصرے نے مجھے یہ احساس دلایا کہ “امید کا سفر” صرف میری کتاب نہیں رہی، یہ قاری کا بھی سفر بن چکی ہے۔ لوگ اپنی زندگیوں کی کہانیاں بیان کرتے ہیں، اپنے دکھ اور حوصلوں کی بات کرتے ہیں، اور یہ اعتراف کرتے ہیں کہ کتاب نے ان کے دلوں کو چھوا۔ شاید یہی اصل کامیابی ہے—دلوں تک پہنچ جانا، اور دلوں میں امید جگا دینا۔
میں یہ اعلان بھی کرنا چاہتا ہوں کہ میری تحریر کا مقصد کبھی شہرت، نام یا مقام نہیں رہا۔ میں ہمیشہ سے یہ سمجھتا ہوں کہ قلم ایک امانت ہے، اور اس کا استعمال معاشرے کی بھلائی کے لیے ہونا چاہیے۔ یہی وجہ ہے کہ میں نے امید کا سفر لکھتے وقت ہر لفظ کے پیچھے نیت یہی رکھی کہ میرا قاری زندگی کے اندھیروں میں بھی روشنی کی کرن تلاش کر سکے۔ زندگی کتنی ہی مشکل کیوں نہ ہو، منزل کا حصول ہمیشہ ممکن ہوتا ہے—اگر انسان امید کو سینے سے لگائے رکھے۔
اللہ تعالیٰ کا کرم ہے کہ کتاب کو نہ صرف عوام نے بلکہ اہلِ علم، اساتذہ، ادیبوں، شاعروں، صحافیوں اور سماجی شخصیات نے بھی سراہا۔ یہ سب کچھ میرے لیے اعزاز بھی ہے اور حوصلہ بھی۔ مجھے بے شمار پروگراموں، تقریبات اور محفلوں میں مدعو کیا گیا، جہاں لوگوں نے کھل کر اپنی محبت کا اظہار کیا۔ یہ سب کچھ دیکھ کر میں نے دل ہی دل میں ایک بار پھر اپنے رب کے حضور شکر ادا کیا، کیونکہ میں جانتا ہوں کہ بغیر اس کی چاہت کے کوئی پتہ بھی نہیں ہل سکتا۔
میں اپنے تمام چاہنے والوں، اپنے اساتذہ، اپنے خاندان، اپنے دوستوں اور ہر اس شخص کا شکریہ ادا کرتا ہوں جس نے میرے لیے ایک نیک خیال بھی دل میں رکھا۔ ان سب کی محبت میرے لیے ایک سرمایہ ہے۔ میں خصوصاً اُن نوجوانوں کا بھی مشکور ہوں جنہوں نے مجھ سے رہنمائی لینے کی خواہش ظاہر کی، کیونکہ نوجوان ہی قوم کی اصل طاقت ہیں اور اگر ان کے دل میں امید، ہمت اور حوصلہ بیدار ہو جائے تو کوئی چیلنج بڑا نہیں رہتا۔
آگے بڑھنے کا سفر ابھی رکا نہیں ہے۔ انشاءاللہ میں آئندہ بھی معاشرے کی بہتری، اصلاح اور آگہی کے لیے لکھتا رہوں گا۔ میری کوشش ہوگی کہ میں ایسے موضوعات کو چُنو جو ہماری آنے والی نسلوں کے لیے فائدہ مند ہوں، جو سوچ کے دروازے کھولیں، جو انسان کو بہتر بنائیں، جو دلوں کو جوڑیں اور اختلافات کی بجائے اتحاد کا پیغام دیں۔
میری خواہش ہے کہ میرے الفاظ ان لوگوں کے زخموں پر مرہم رکھیں جنہیں زندگی نے تھکا دیا ہے۔ میرا قلم اُن نوجوانوں کو راستہ دکھائے جو انجانے خوف کا شکار ہیں۔ میری تحریریں اُن دلوں میں چراغ روشن کریں جن میں امید کی لو مدھم ہو چکی ہے۔ اگر میری کسی ایک سطر سے بھی کسی ایک انسان کو فائدہ پہنچتا ہے تو میں سمجھوں گا کہ میری محنت رنگ لے آئی۔
آخر میں، میں پھر سے اپنے رب کا شکر ادا کرتا ہوں جس نے مجھے یہ نعمت عطا کی، اور میں اپنے تمام چاہنے والوں کا دل سے احسان مند ہوں جنہوں نے امید کا سفر کو محبت، احترام اور خلوص کے ساتھ قبول کیا۔
اللہ تعالیٰ ہمیں ہمیشہ مثبت سوچ، اچھے عمل اور پُرجوش جذبے کے ساتھ زندگی گزارنے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین۔
— انجینیئر علی رضوان چوہدری