کہاں گیا وہ دور پرانا

کہاں گیا وہ دور پرانا…
انجینیئر علی رضوان چوہدری
کہاں گیا وہ دور پرانا وہ چاہتوں محبتوں خلوص بھائی چارہ اس دور میں صرف پیار محبت کے سوا کچھ نہیں تھا ۔ایک دوسرے کا احساس کرنے والے لوگ خوشیوں میں شریک ہوتے دوسرے کے غم کو اپنا غم سمجھنے والے لوگ کہاں گئے وہ لوگ کہاں گیا وہ زمانہ کہاں گیا وہ دور ۔
وہ سادگی بھرا زمانہ، وہ محبتوں سے لبریز معاشرہ، وہ خلوص اور احساس سے بھری زندگی۔ آج جب ہم ماضی کی طرف جھانکتے ہیں تو کئی ایسے مناظر دل کے پردے پر ابھر آتے ہیں جو ہمارے آج سے کہیں زیادہ روشن، کہیں زیادہ پُرسکون اور کہیں زیادہ انسانیت سے بھرپور تھے۔ وقت ضرور بدلتا ہے، مگر بعض تبدیلیاں دل کو سوچنے پر مجبور کرتی ہیں کہ آخر وہ پرانا دور کہاں کھو گیا؟
کیا ہی وہ دور تھا جب دوسروں کی خوشیاں دیکھ کر خوش ہونے والے لوگ تھے ۔اور دوسروں کے غم میں بھی برابر کے شریک ہوتے ۔
پرانے زمانے کی سب سے بڑی پہچان سادگی تھی۔ لوگوں کی خواہشات کم تھیں، دل بڑے تھے۔ گھروں میں کم چیزیں ہوتی تھیں، مگر سکون زیادہ ہوتا تھا۔ آج کے دور کی طرح ہر شخص خواہشوں کے پیچھے بھاگتا نہ تھا۔ زندگی مشکل ضرور تھی مگر دلوں میں محبت اور ایک دوسرے کے لیے جگہ موجود تھی۔ ہمسائے حقیقی معنوں میں ہمسائے تھےایک دوسرے کے دکھ سکھ میں شریک، دروازے ہمیشہ کھلے، دلوں میں دوریاں کم، اور رشتوں میں گرمجوشی زیادہ۔
کہاں گیا وہ دور جب شام ہونے سے پہلے پہلے سب اپنے گھروں میں جمع ہوتے تھے، جب کھانا ایک دسترخوان پر بیٹھ کر کھایا جاتا تھا، جب والدین کی گود میں اور دادا دادی کی باتوں میں پوری زندگی کی تربیت موجود ہوتی تھی۔ آج گھروں کی رونقیں ٹی وی، موبائل اور سوشل میڈیا نے چھین لی ہیں۔ پہلے کہانیاں سنانے والے بزرگ تھے، آج اسکرینیں ہیں جو بچوں کے دلوں میں وہ محبت، وہ تربیت اور وہ جذبات پیدا نہیں کر سکتیں جو ایک روایتی خاندان کا ماحول دیتا تھا۔
پہلے کے لوگ کم بولتے تھے مگر سچ بولتے تھے۔ وعدے نبھاتے تھے، رشتوں کی قدر کرتے تھے۔ آج الفاظ زیادہ ہو گئے ہیں، مگر احساس کم ہوتا جا رہا ہے۔ رشتوں میں بوجھ بڑھ رہا ہے، مفادات کی دیواریں کھڑی ہو رہی ہیں۔ پہلے کے لوگ کماتے کم تھے مگر خرچ محبت پر کرتے تھے۔ اب جیبیں بھری ہیں مگر دل خالی ہوتے جا رہے ہیں۔
کہاں گیا وہ دور جب کسی کے گھر مشکل آتی تو پورا محلہ کھڑا ہو جاتا تھا؟ ایک کی خوشی سب کی خوشی، ایک کا غم سب کا غم ہوتا تھا۔ آج کے زمانے میں ہر شخص اپنی دنیا میں قید ہو کر رہ گیا ہے۔ خودغرضی اور مقابلہ پرستی نے تعلقات کے اصل حسن کو کمزور کر دیا ہے۔
پہلے کے اسکول سادہ تھے مگر استاد کی عزت بے مثال تھی۔ استاد کے ایک اشارے سے بچے سنبھل جاتے تھے۔ تعلیم کا مقصد صرف نمبروں کا حصول نہ تھا بلکہ کردار سازی تھی۔ آج تعلیم کاروبار بن چکی ہے، مقابلہ اتنا بڑھ گیا ہے کہ بچوں کی معصومیت اور ان کا سکون کہیں پیچھے رہ گیا ہے۔
کہاں گیا وہ دور جب چوکیدار کے ایک سیٹی بجانے سے پورے محلے کو حفاظت کا احساس ہوتا تھا؟ جب راتیں لمبی تھیں، مگر خوف کم تھا۔ جب راستے محفوظ تھے، دروازے کھلے رہتے تھے اور ہر شخص دوسرے کے لیے خیرخواہ ہوا کرتا تھا۔ آج ہم جدید ہیں مگر خوف زیادہ ہے۔ گاڑیاں نئی ہیں مگر سفر بے سکون ہے۔ گھروں میں آسائشیں بڑھ گئیں مگر دلوں میں اعتماد اور پیار کم ہو گیا۔
پرانے دور کا ایک اور رنگ مہمان نوازی تھا۔ مہمان دروازے پر آتا تو گھر میں خوشی کی لہر دوڑ جاتی۔ آج مہمان کو خوشی نہیں، بوجھ سمجھا جانے لگا ہے۔ مصروفیت نے انسان کو انسان ہی سے دور کر دیا ہے۔
پہلے لوگ وقت نکالتے تھے، اب وقت نہیں ملتا۔ پہلے دل ملتے تھے، اب ملاقاتیں نہیں ہوتیں۔ پہلے انسان انسان کے لیے جیتا تھا، آج ہر شخص اپنی دنیا میں گم ہے۔
لیکن سوال یہ ہے کہ کیا وہ دور ہمیشہ کے لیے چلا گیا؟ نہیں! وہ دور آج بھی واپس آ سکتا ہے اگر ہم چاہیں۔ اگر ہم سادگی کو اختیار کریں، تعلقات کو ترجیح دیں، بزرگوں کی عزت کریں، رشتوں میں خلوص واپس لائیں، اور دلوں میں وہی محبت پیدا کریں جو کبھی ہمارے معاشرے کی پہچان تھی۔
وہ دور تب لوٹے گا جب ہم واپس اپنے اصل کی طرف آئیں گے۔ جب ہم اپنا کردار درست کریں گے، خودغرضی چھوڑیں گے، بچوں کو تہذیب اور اخلاق کا سبق دیں گے، اور اپنے گھروں کو پھر سے محبت اور امن کا مرکز بنائیں گے۔
یہ ہم پر ہے کہ ہم کیسی دنیا چھوڑ کر جانا چاہتے ہیں؟ وہ دنیا جو مصنوعی ترقی میں ڈوب جائے؟
یا وہ دنیا جو محبتوں اور انسانیت سے روشن ہو؟
وقت گزر گیا ہے، مگر سبق اب بھی باقی ہے۔
وہ پرانا دور کھویا نہیں وہ ہمارے کردار، ہمارے عمل اور ہماری نیت کے دوبارہ زندہ ہونے کا منتظر ہے۔
شاید وہ دور کبھی واپس نہیں آ سکتا اور نہ ہی اس تو جیسے لوگ واپس آ سکتے ہیں لیکن اصل جینا تو اسی دور کا جینا تھا اس دور میں اپنوں کے لیے جیا جاتا تھا نہ کہ اپنے لیے ۔

Tags :

Share :

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

انجینئر علی رضوان چوہدری

انجینئر علی رضوان چوہدری

انجینئر علی رضوان چوہدری ایک مصنف ہیں جو اپنی تحریروں کے ذریعے امید، حوصلے اور زندگی کا مثبت پیغام دیتے ہیں۔

All Posts

Latest Post