گیس کے بڑھتے بل فکس ٹیکسز اور مہنگائی کا بوجھ

گیس کے بڑھتے بل، فکس ٹیکسز اور مہنگائی کا بوجھ مزدور طبقہ کیلئے ایک سنگین چیلنج

تحریر انجینیئر علی رضوان چوہدری

  • پاکستان میں مہنگائی کا بڑھتا ہوا طوفان پہلے ہی عام شہری کے لیے زندگی کو مشکل بنا چکا تھا، مگر حالیہ دنوں میں گیس کے بلوں میں غیر معمولی اضافہ اور اس پر مزید فکس ٹیکسز نے مزدور طبقے کی کمر توڑ کر رکھ دی ہے۔ وہ طبقہ جو پہلے ہی اپنی محنت مزدوری سے بمشکل گھر کا خرچ پورا کر رہا تھا، اب اسے ہر ماہ ایک نیا معاشی جھٹکا برداشت کرنا پڑ رہا ہے۔
    گزشتہ چند ماہ کے دوران گیس کے بلوں میں اضافہ اس قدر ہوا ہے کہ غریب اور متوسط گھرانے جن کا ماہانہ بجٹ پہلے ہی محدود تھا، اب اپنی بنیادی ضروریات پوری کرنے کے لیے بھی پریشان ہیں۔ بجلی کے بل، مہنگا پیٹرول، آٹا، چینی، سبزی، دالیں، دوائیاں ایک طرف مہنگائی کا یہ نہ ختم ہونے والا سلسلہ، اور دوسری طرف گیس کے بل میں شامل نئے فکس ٹیکسز نے حالات کو مزید خوفناک بنا دیا ہے۔
    مزدور طبقے کی مشکلات
    پاکستان کی معیشت میں مزدور اور محنت کش طبقہ ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتا ہے۔ یہی لوگ کارخانوں میں، کھیتوں میں، مارکیٹوں میں اور تعمیراتی مقامات پر دن رات محنت کر کے ملک کے معاشی پہیے کو چلاتے ہیں۔ لیکن بدقسمتی سے جب بھی مہنگائی بڑھتی ہے یا نئے ٹیکس لگتے ہیں، سب سے پہلا اثر اسی کمزور طبقے پر پڑتا ہے۔
    گزشتہ کئی برسوں سے مزدور کی تنخواہ میں خاطر خواہ اضافہ نہیں ہوا جبکہ مہنگائی مسلسل آسمان کو چھو رہی ہے۔ ایسے میں اگر گیس کے بل میں ہزاروں روپے کا اضافہ ہو جائے تو مزدور کیسے گزارا کرے؟ وہ شخص جو دس سے پندرہ ہزار ماہانہ کما رہا ہے، جس کے گھر میں بچے سکول جاتے ہیں، جسے راشن، کرایہ، علاج، کپڑے سب کچھ اسی محدود آمدنی سے پورا کرنا ہوتا ہے، اس پر گیس کے بل کی مد میں فکس ٹیکسز لگا دینا کھلی ناانصافی نہیں تو اور کیا ہے؟
    مہنگائی کے روزانہ بڑھتے اثرات
    مہنگائی اب سالانہ یا ماہانہ نہیں بلکہ روزانہ کی بنیاد پر بڑھ رہی ہے۔ مارکیٹ میں ہر شے کی قیمت چند دن بعد بدل جاتی ہے۔ دکان دار بھی اس غیر یقینی صورتحال کا رونا روتے ہیں، جبکہ خریدار ہاتھ پر ہاتھ رکھ کر بے بسی سے دیکھتے رہ جاتے ہیں۔
    سبزی سے لے کر آٹے تک ہر قیمت دبے پاؤں اوپر جا رہی ہے۔ پٹرول کی قیمت بڑھتی ہے تو ہر چیز پر اثر پڑتا ہے۔ ٹرانسپورٹ مہنگی ہوتی ہے، جس کا وزن پھر غریب ہی اٹھاتا ہے۔
    ایسے میں گھر کا بجٹ بنانا ناممکن ہو چکا ہے۔ لوگ یا تو اکثر چیزیں چھوڑ دیتے ہیں یا ضروریات زندگی میں غیر ضروری کٹوتیاں کرتے ہیں۔ دودھ کم لے لیا، بچوں کے جوتے یا کپڑے مؤخر کر دیے، ڈاکٹر کے پاس جانے کی بجائے گھریلو ٹوٹکوں پر گزارا کیا یہ سب اسی معاشی دباؤ کا نتیجہ ہے۔
    گیس کے بل عوام کیلئے ایک نیا عذاب
    حالیہ گیس کے بلوں نے عام آدمی کو شدید صدمہ پہنچایا ہے۔
    کم استعمال کے باوجود بل ہزاروں میں
    ہر بل میں شامل فکس ٹیکسز
    غریبوں کیلئے سبسڈی کم ہونا
    سردیوں میں گیس کی قلت اور اس کے باوجود بھاری بل
    یہ صورتحال عوام کے زخموں پر نمک چھڑکنے کے مترادف ہے۔ حیرت کی بات یہ ہے کہ ایک طرف گیس کا پریشر نہیں، لوگ کھانا پکانے کیلئے لکڑیاں، سلنڈر یا الیکٹرک آلات استعمال کرنے پر مجبور ہیں، اور دوسری طرف پورے مہینے میں گیس نہ آنے کے باوجود ہزاروں روپے کا بل تھما دیا جاتا ہے۔ عوام پوچھنے میں حق بجانب ہیں: آخر یہ فکس ٹیکس کس چیز کا ہےکس سروس کا
    گزر بسر مشکل غربت میں اضافہ
    مہنگائی نے ایک طرف متوسط طبقے کو غریب اور غریب کو خطِ غربت سے نیچے دھکیل دیا ہے۔
    گھر چلانا مشکل، بچوں کا پیٹ بھرنا مشکل، پڑھائی کرانا مشکل، علاج کروانا مشکل زندگی کے ہر شعبے میں پریشانیاں ہیں۔
    گھر کا سربراہ جب شام کو تھکا ہارا گھر لوٹتا ہے، اور سامنے بجلی، پانی، گیس، راشن، کرایہ، سکول فیسوں کے بل پڑے ہوتے ہیں، تو وہ بے بس ہو جاتا ہے۔
    کئی گھر ایسے ہیں جو اب دو وقت کی روٹی بھی مشکل سے پوری کر رہے ہیں۔ مزدور طبقہ جو پہلے اپنی محنت پر ناز کرتا تھا، اب ہاتھ پھیلانے پر مجبور ہو رہا ہے۔
    ریاست کی ذمہ داری اور عوام کی امید
    ریاست کا بنیادی فرض ہے کہ وہ اپنے شہریوں کو آسانیاں دے، سہولیات دے، نہ کہ ان پر بوجھ ڈالے۔ مہنگائی کم کرنا، ضروریات زندگی سستی رکھنا، مزدور کی کم از کم تنخواہ بڑھانا، غیر ضروری ٹیکسوں کا خاتمہ کرنایہ سب حکومت کی ذمہ داریاں ہیں۔
    عوام آج حکومت سے صرف ایک مطالبہ رکھتے ہیں کہ
    گیس کے بلوں میں غیر ضروری اضافے کو ختم کیا جائے
    فکس ٹیکسز کو ختم یا کم کیا جائے
    مزدور طبقے کیلئے خصوصی ریلیف پیکج دیا جائے
    مہنگائی پر کنٹرول کیلئے سخت اقدامات کیے جائیں
    کیونکہ اگر یہی صورتحال رہی تو لاکھوں گھرانے معاشی تباہی کے دہانے پر پہنچ جائیں گے۔

Tags :

Share :

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

انجینئر علی رضوان چوہدری

انجینئر علی رضوان چوہدری

انجینئر علی رضوان چوہدری ایک مصنف ہیں جو اپنی تحریروں کے ذریعے امید، حوصلے اور زندگی کا مثبت پیغام دیتے ہیں۔

All Posts

Latest Post