ہمارا سماج اور ہم

ہمارا سماج اور ہم

تحریر: انجینیئر علی رضوان چوہدری

سماج افراد کے مجموعے کا نام ہے، اور افراد کے کردار سے ہی سماج کی پہچان بنتی ہے۔ ہم اکثر یہ شکوہ کرتے نظر آتے ہیں کہ ہمارا سماج بگڑ چکا ہے، اقدار ختم ہو رہی ہیں، برداشت کم ہو گئی ہے اور خود غرضی عام ہو چکی ہے، لیکن کم ہی یہ سوچتے ہیں کہ اس سماج کا حصہ ہم خود بھی ہیں۔ اگر سماج میں خرابی ہے تو اس کی ذمہ داری کسی ایک فرد یا طبقے پر نہیں بلکہ ہم سب پر عائد ہوتی ہے۔
ہمارا سماج آج جن مسائل کا شکار ہے ان میں سب سے بڑا مسئلہ اخلاقی زوال ہے۔ سچ بولنا، وعدہ پورا کرنا، امانت میں خیانت نہ کرنا اور دوسروں کے حقوق کا خیال رکھنا جیسے اوصاف کمزور پڑتے جا رہے ہیں۔ ہم چاہتے ہیں کہ دوسرے ایماندار ہوں، لیکن خود فائدے کے وقت اصولوں کو پس پشت ڈال دیتے ہیں۔ یہی دوہرا معیار سماج کو اندر سے کھوکھلا کر رہا ہے۔
تعلیم کسی بھی معاشرے کی بنیاد ہوتی ہے، مگر افسوس کہ ہم نے تعلیم کو صرف ڈگری اور نوکری تک محدود کر دیا ہے۔ کردار سازی، برداشت، تنقیدی سوچ اور اخلاقی تربیت کو ہم نے نصاب سے تقریباً نکال دیا ہے۔ نتیجہ یہ ہے کہ پڑھا لکھا فرد تو موجود ہے، مگر باکردار انسان ناپید ہوتا جا رہا ہے۔ اگر ہم واقعی ایک بہتر سماج چاہتے ہیں تو ہمیں تعلیم کے ساتھ تربیت کو بھی لازم بنانا ہوگا۔
ہمارے سماج میں عدم برداشت ایک سنگین مسئلہ بنتا جا رہا ہے۔ اختلافِ رائے کو دشمنی سمجھ لیا جاتا ہے۔ معمولی باتوں پر جھگڑے، تشدد اور نفرت جنم لیتی ہے۔ سوشل میڈیا نے اس مسئلے کو مزید بڑھا دیا ہے جہاں بغیر تحقیق کے الزامات لگانا، کردار کشی کرنا اور نفرت پھیلانا عام ہو چکا ہے۔ ہمیں سیکھنا ہوگا کہ اختلاف کے باوجود احترام کیسے قائم رکھا جاتا ہے۔
خاندانی نظام جو کبھی ہمارے سماج کی پہچان تھا، آج دباؤ کا شکار ہے۔ والدین اور اولاد کے درمیان فاصلے بڑھ رہے ہیں، بزرگوں کی قدر کم ہو رہی ہے اور رشتوں میں مفاد غالب آتا جا رہا ہے۔ اگر گھر کا نظام کمزور ہو جائے تو سماج مضبوط نہیں رہ سکتا۔ ہمیں گھروں سے ہی احترام، محبت اور برداشت کی تربیت دوبارہ شروع کرنا ہوگی۔
ہمارے سماج میں قانون کی بالادستی کا فقدان بھی ایک بڑا مسئلہ ہے۔ ہم چاہتے ہیں کہ قانون صرف دوسروں پر لاگو ہو، جبکہ خود کو اس سے بالا سمجھتے ہیں۔ ٹریفک قوانین سے لے کر روزمرہ کے سماجی اصولوں تک، ہم انہیں نظرانداز کرتے ہیں اور پھر بدعنوانی اور بدنظمی کا رونا روتے ہیں۔ ایک مہذب سماج کے لیے قانون کی پاسداری سب کے لیے یکساں ہونی چاہیے۔
معاشی ناہمواری بھی ہمارے سماج میں بگاڑ کا سبب بن رہی ہے۔ امیر اور غریب کے درمیان بڑھتا ہوا فرق احساسِ محرومی کو جنم دیتا ہے، جو جرائم اور بدامنی کی شکل اختیار کر لیتا ہے۔ ہمیں بطور سماج یہ سوچنا ہوگا کہ کیا ہم کمزور طبقے کے لیے اپنا کردار ادا کر رہے ہیں یا صرف تنقید تک محدود ہیں۔ زکوٰۃ، صدقات اور فلاحی کام صرف مذہبی فریضہ نہیں بلکہ سماجی ذمہ داری بھی ہیں۔
اصلاحِ سماج کے لیے سب سے پہلے ہمیں خود سے آغاز کرنا ہوگا۔ یہ سوچ کہ “میں اکیلا کیا کر سکتا ہوں” دراصل مسئلے سے فرار ہے۔ اگر ہر فرد اپنی ذمہ داری ایمانداری سے نبھائے، سچ بولے، دوسروں کے حقوق کا خیال رکھے اور قانون کی پاسداری کرے تو مجموعی طور پر سماج میں مثبت تبدیلی آ سکتی ہے۔ چھوٹی چھوٹی اصلاحات مل کر بڑی تبدیلی کا سبب بنتی ہیں۔
ہمیں یہ بھی تسلیم کرنا ہوگا کہ تنقید کے ساتھ ساتھ تعمیری کردار ادا کرنا ضروری ہے۔ صرف مسائل کی نشاندہی کافی نہیں، بلکہ حل کی طرف قدم بڑھانا بھی لازم ہے۔ نوجوان نسل خاص طور پر اس سلسلے میں اہم کردار ادا کر سکتی ہے۔ اگر نوجوان علم، شعور اور اخلاق کو اپنا شعار بنا لیں تو مستقبل کا سماج خود بخود بہتر ہو سکتا ہے۔
آخر میں یہ کہنا بے جا نہ ہوگا کہ ہمارا سماج ہم سے ہی بنتا اور بگڑتا ہے۔ اگر ہم چاہتے ہیں کہ ہمارا سماج مہذب، پرامن اور ترقی یافتہ ہو تو ہمیں اپنے رویوں، سوچ اور عمل کا ازسرِنو جائزہ لینا ہوگا۔ تبدیلی کا آغاز باہر سے نہیں، بلکہ اپنے اندر سے ہوتا ہے۔ جب ہم بدلیں گے تو ہمارا سماج بھی بدل جائے گا، اور یہی ایک روشن اور مضبوط مستقبل کی ضمانت ہے۔

Tags :

Share :

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

انجینئر علی رضوان چوہدری

انجینئر علی رضوان چوہدری

انجینئر علی رضوان چوہدری ایک مصنف ہیں جو اپنی تحریروں کے ذریعے امید، حوصلے اور زندگی کا مثبت پیغام دیتے ہیں۔

All Posts

Latest Post