عید کی خوشیوں میں ضرورت مندوں اور سفید پوش گھرانوں کو بھی ضرور شامل کریں

  1. عید کی خوشیوں میں ضرورت مندوں اور سفید پوش گھرانوں کو بھی ضرور شامل کریں
    تحریر: انجینیئر علی رضوان چوہدری
    عیدالفطر مسلمانوں کے لیے خوشی، مسرت، محبت اور بھائی چارے کا عظیم تہوار ہے۔ رمضان المبارک کے بابرکت مہینے کے بعد جب عید کا چاند نظر آتا ہے تو ہر طرف خوشیوں کی لہر دوڑ جاتی ہے۔ بچے نئے کپڑوں اور عیدی کے خواب سجانے لگتے ہیں، گھروں میں صفائی، پکوانوں اور مہمان نوازی کی تیاریاں شروع ہو جاتی ہیں اور ہر دل خوشی سے سرشار ہو جاتا ہے۔ لیکن اس خوشی کے موقع پر ہمیں یہ بھی سوچنا چاہیے کہ ہمارے معاشرے میں بہت سے ایسے لوگ بھی موجود ہیں جو معاشی مشکلات کی وجہ سے عید کی خوشیوں سے پوری طرح لطف اندوز نہیں ہو پاتے۔ اس لیے عید کی اصل روح یہ ہے کہ ہم اپنی خوشیوں میں ضرورت مندوں اور سفید پوش گھرانوں کو بھی ضرور شامل کریں۔
    اسلام ایک ایسا دین ہے جو صرف عبادات تک محدود نہیں بلکہ انسانیت کی خدمت اور معاشرتی ذمہ داریوں کو بھی بہت اہمیت دیتا ہے۔ قرآن پاک اور احادیث مبارکہ میں بار بار ضرورت مندوں، یتیموں، مسکینوں اور محتاجوں کی مدد کرنے کی تاکید کی گئی ہے۔ رمضان المبارک کے اختتام پر صدقۂ فطر کی ادائیگی بھی اسی مقصد کے لیے مقرر کی گئی ہے تاکہ معاشرے کے غریب اور نادار افراد بھی عید کے دن خوشی محسوس کر سکیں اور ان کے گھروں میں بھی خوشیوں کا چراغ روشن ہو سکے۔
    بدقسمتی سے ہمارے معاشرے میں بہت سے ایسے سفید پوش خاندان موجود ہیں جو شدید مالی مشکلات کا شکار ہوتے ہیں لیکن اپنی عزت نفس کی وجہ سے کسی کے سامنے ہاتھ نہیں پھیلاتے۔ یہ لوگ بظاہر خوشحال نظر آتے ہیں مگر اندر ہی اندر مشکلات کا سامنا کر رہے ہوتے ہیں۔ ایسے لوگوں کی مدد کرنا نہ صرف ایک بڑا کارِ خیر ہے بلکہ یہ انسانیت کی اعلیٰ مثال بھی ہے۔ ہمیں چاہیے کہ ہم اپنے اردگرد نظر رکھیں اور خاموشی سے ایسے خاندانوں تک مدد پہنچائیں تاکہ ان کی عزت نفس بھی مجروح نہ ہو اور ان کے گھروں میں بھی عید کی خوشیاں داخل ہو سکیں۔
    عید کے موقع پر ہم اکثر نئے کپڑے، جوتے، مٹھائیاں اور مختلف تحائف خریدتے ہیں۔ اگر ہم اپنی خریداری میں تھوڑا سا اضافہ کر کے چند چیزیں ضرورت مندوں کے لیے بھی لے آئیں تو یہ ان کے لیے بہت بڑی خوشی کا باعث بن سکتی ہے۔ کسی غریب بچے کو نئے کپڑے دلوا دینا، کسی بیوہ کے گھر راشن پہنچا دینا یا کسی سفید پوش خاندان کی خاموشی سے مالی مدد کر دینا ایسے اعمال ہیں جو اللہ تعالیٰ کے ہاں بہت پسندیدہ ہیں۔
    ہمیں یہ بھی یاد رکھنا چاہیے کہ عید کا اصل مقصد صرف ظاہری خوشیاں منانا نہیں بلکہ دوسروں کے ساتھ خوشی بانٹنا ہے۔ اگر ہمارے اردگرد کوئی ایسا شخص موجود ہے جو معاشی مشکلات کا شکار ہے تو ہمیں اس کی مدد کے لیے آگے بڑھنا چاہیے۔ معاشرے میں خوشحالی اور سکون اسی وقت ممکن ہے جب ہر فرد دوسرے کے دکھ درد کو محسوس کرے اور ایک دوسرے کا سہارا بنے۔
    آج کے دور میں مہنگائی اور معاشی مشکلات کی وجہ سے بہت سے خاندان پریشانی کا شکار ہیں۔ ایسے حالات میں اگر صاحب استطاعت لوگ آگے بڑھ کر ضرورت مندوں کی مدد کریں تو یہ معاشرے میں مثبت تبدیلی لا سکتا ہے۔ اگر ہر شخص اپنے حصے کی تھوڑی سی ذمہ داری پوری کر لے تو بہت سے مسائل خود بخود حل ہو سکتے ہیں۔ ایک فرد کی چھوٹی سی کوشش کسی دوسرے کی زندگی میں بڑی خوشی کا سبب بن سکتی ہے۔
    ہمیں چاہیے کہ عید کے موقع پر اجتماعی طور پر بھی ایسے اقدامات کریں جن سے زیادہ سے زیادہ مستحق افراد تک مدد پہنچ سکے۔ محلے کی سطح پر راشن تقسیم کرنا، یتیم بچوں کے لیے عیدی کا اہتمام کرنا یا سفید پوش خاندانوں کے لیے کپڑوں اور ضروری اشیاء کا بندوبست کرنا ایسے کام ہیں جو معاشرے میں محبت اور بھائی چارے کو فروغ دیتے ہیں۔ اس طرح نہ صرف مستحق افراد کی مدد ہوتی ہے بلکہ معاشرے میں باہمی ہمدردی اور اتحاد بھی مضبوط ہوتا ہے۔
    اسلام ہمیں سکھاتا ہے کہ حقیقی خوشی دوسروں کو خوشی دینے میں ہے۔ جب ہم کسی ضرورت مند کی مدد کرتے ہیں اور اس کے چہرے پر مسکراہٹ دیکھتے ہیں تو دل کو ایک خاص سکون اور اطمینان حاصل ہوتا ہے۔ یہی وہ احساس ہے جو عید کی خوشیوں کو حقیقی معنوں میں مکمل بناتا ہے۔
    آئیے اس عید پر ہم سب یہ عہد کریں کہ اپنی خوشیوں کو صرف اپنے گھروں تک محدود نہیں رکھیں گے بلکہ ضرورت مندوں، یتیموں اور سفید پوش خاندانوں کو بھی ان خوشیوں میں شامل کریں گے۔ اپنے اردگرد ایسے لوگوں کو تلاش کریں گے جو خاموشی سے مشکلات برداشت کر رہے ہیں اور اپنی استطاعت کے مطابق ان کی مدد کریں گے۔ اگر ہم سب مل کر یہ سوچ اپنالیں تو یقیناً کوئی بھی گھر عید کی خوشیوں سے محروم نہیں رہے گا۔
    عید کا اصل حسن اسی میں ہے کہ ہر چہرہ مسکرا رہا ہو، ہر گھر میں خوشی کی روشنی ہو اور کوئی بھی فرد خود کو تنہا یا محروم محسوس نہ کرے۔ اللہ تعالیٰ ہمیں توفیق عطا فرمائے کہ ہم عید کی خوشیوں کو دوسروں کے ساتھ بانٹ سکیں اور اپنے معاشرے کو محبت، ہمدردی اور بھائی چارے کا گہوارہ بنا سکیں۔ آمین۔

Tags :

Share :

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

انجینئر علی رضوان چوہدری

انجینئر علی رضوان چوہدری

انجینئر علی رضوان چوہدری ایک مصنف ہیں جو اپنی تحریروں کے ذریعے امید، حوصلے اور زندگی کا مثبت پیغام دیتے ہیں۔

All Posts

Latest Post