دولت، عہدے اور اختیارات

  1. دولت، عہدے اور اختیارات

تحریر: انجینئر علی رضوان چوہدری

  1. انسانی معاشرے کی تاریخ پر نظر ڈالیں تو یہ حقیقت واضح ہوتی ہے کہ دولت، عہدے اور اختیارات ہمیشہ سے طاقت کے اہم ذرائع رہے ہیں۔ انہی تین عناصر کے گرد انسانی خواہشات، جدوجہد، کامیابیاں اور ناکامیاں گھومتی رہی ہیں۔ بظاہر یہ تینوں چیزیں انسان کو عزت، اثر و رسوخ اور سہولت فراہم کرتی ہیں، مگر اگر ان کا استعمال درست نہ ہو تو یہی دولت، عہدہ اور اختیار انسان اور معاشرے دونوں کے لیے زوال کا سبب بھی بن جاتے ہیں۔
    دولت اللہ تعالیٰ کی ایک نعمت ہے۔ یہ انسان کی بنیادی ضروریات پوری کرنے، تعلیم، صحت اور بہتر معیارِ زندگی حاصل کرنے کا ذریعہ بنتی ہے۔ مگر مسئلہ اس وقت پیدا ہوتا ہے جب دولت کو مقصدِ حیات بنا لیا جائے۔ دولت کا اصل حسن اس کے استعمال میں ہے، نہ کہ اس کے انبار لگانے میں۔ ایک ایسا معاشرہ جہاں دولت چند ہاتھوں میں سمٹ جائے اور اکثریت بنیادی سہولتوں سے محروم ہو، وہاں بے چینی، حسد اور جرائم جنم لیتے ہیں۔ تاریخ ہمیں بتاتی ہے کہ وہ اقوام ترقی کرتی ہیں جہاں دولت کو امانت سمجھ کر فلاحِ عامہ پر خرچ کیا جاتا ہے۔
    اسی طرح عہدہ بھی ایک آزمائش ہے۔ عہدہ انسان کو پہچان، طاقت اور فیصلوں کا اختیار دیتا ہے۔ ایک بااختیار عہدے پر فائز شخص اگر دیانت، انصاف اور خدمتِ خلق کو اپنا شعار بنا لے تو وہ قوموں کی تقدیر بدل سکتا ہے۔ اس کے برعکس اگر عہدہ ذاتی مفادات، اقربا پروری اور انا کی تسکین کے لیے استعمال ہو تو یہ پورے نظام کو کھوکھلا کر دیتا ہے۔ ہمارے معاشرے میں اکثر عہدے کو عزت کا پیمانہ سمجھ لیا جاتا ہے، حالانکہ اصل عزت کردار اور خدمت میں ہے، نہ کہ کرسی میں۔
    اختیارات دراصل ذمہ داری کا دوسرا نام ہیں۔ اختیار جتنا زیادہ ہو، جواب دہی بھی اتنی ہی بڑی ہونی چاہیے۔ بدقسمتی سے ہمارے ہاں اختیار کو اکثر طاقت کے اظہار کے لیے استعمال کیا جاتا ہے، نہ کہ مسائل کے حل کے لیے۔ ایک افسر، سیاست دان یا سربراہ جب یہ سمجھنے لگے کہ وہ قانون سے بالاتر ہے تو پھر ناانصافی، ظلم اور استحصال جنم لیتے ہیں۔ اختیار اگر قانون اور اخلاق کے دائرے میں رہے تو معاشرہ نظم و ضبط کا نمونہ بن جاتا ہے، اور اگر یہ دائرہ ٹوٹ جائے تو انتشار پھیل جاتا ہے۔
    دولت، عہدہ اور اختیار کا باہمی تعلق بھی قابلِ غور ہے۔ اکثر دیکھا گیا ہے کہ دولت کے ذریعے عہدے حاصل کیے جاتے ہیں، اور عہدوں کے ذریعے مزید اختیارات اور دولت سمیٹی جاتی ہے۔ یہ ایک ایسا دائرہ ہے جو اگر غلط سمت میں چل پڑے تو کرپشن، ناانصافی اور طبقاتی تقسیم کو جنم دیتا ہے۔ اس کے برعکس اگر یہ تینوں عناصر خدمتِ انسانیت کے لیے استعمال ہوں تو یہی معاشرے کی ترقی کا زینہ بن جاتے ہیں۔
    اسلامی تعلیمات ہمیں واضح رہنمائی فراہم کرتی ہیں۔ دولت کو زکوٰۃ، صدقات اور خیرات کے ذریعے معاشرے میں گردش میں رکھنے کا حکم دیا گیا ہے۔ عہدے کو امانت قرار دیا گیا ہے اور اختیار رکھنے والوں کو عدل و انصاف کا پابند بنایا گیا ہے۔ تاریخِ اسلام میں ہمیں ایسے بے شمار واقعات ملتے ہیں جہاں حکمرانوں نے اپنے اختیارات کو عوامی فلاح کے لیے استعمال کیا اور سادہ زندگی کو ترجیح دی۔ یہی وہ طرزِ عمل تھا جس نے ایک مثالی معاشرہ تشکیل دیا۔
    آج کے دور میں ضرورت اس امر کی ہے کہ ہم دولت، عہدے اور اختیارات کے بارے میں اپنی سوچ کو درست کریں۔ ہمیں یہ سمجھنا ہوگا کہ یہ سب وقتی ہیں اور اصل کامیابی اچھے اعمال، دیانت اور خدمتِ خلق میں ہے۔ اگر ہر صاحبِ اختیار شخص یہ عہد کر لے کہ وہ اپنے منصب کو ذاتی فائدے کے بجائے عوامی خدمت کے لیے استعمال کرے گا، تو معاشرے کے بیشتر مسائل خود بخود حل ہو سکتے ہیں۔
    آخر میں یہی کہا جا سکتا ہے کہ دولت، عہدے اور اختیارات نہ تو بذاتِ خود برے ہیں اور نہ ہی مکمل طور پر اچھے۔ ان کی قدر و قیمت انسان کے کردار سے جڑی ہوئی ہے۔ ایک باکردار انسان کے ہاتھ میں یہ طاقتیں رحمت بن جاتی ہیں، اور بے کردار شخص کے ہاتھ میں یہی طاقتیں زحمت۔ ہمیں بحیثیت قوم یہ فیصلہ کرنا ہے کہ ہم انہیں کس راستے پر استعمال کرنا چاہتے ہیں—تعمیر کے لیے یا تخریب کے لیے۔

Tags :

Share :

One Response

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

انجینئر علی رضوان چوہدری

انجینئر علی رضوان چوہدری

انجینئر علی رضوان چوہدری ایک مصنف ہیں جو اپنی تحریروں کے ذریعے امید، حوصلے اور زندگی کا مثبت پیغام دیتے ہیں۔

All Posts

Latest Post