پاکستان میں غریب کو انصاف مل سکتا ہے یا نہیں

پاکستان میں غریب کو انصاف مل سکتا ہے یا نہیں؟
تحریر انجینئر علی رضوان چودھری
یہ سوال آج کے دور میں ایک تلخ حقیقت کی طرح ہمارے سامنے کھڑا ہے۔ آئین اور قانون تو سب کو برابر کے حقوق دیتا ہے، مگر عملی طور پر انصاف کا حصول اکثر کمزور طبقے کے لیے ایک طویل، کٹھن اور صبر آزما سفر بن جاتا ہے۔
سندھ کی بہادر بیٹی ام رباب کی کہانی اسی نظامِ انصاف کی ایک نمایاں مثال ہے۔ ایک نوجوان لڑکی جس کے والد کو بے رحمی سے قتل کر دیا گیا۔ اس سانحے کے بعد وہ نہ صرف اپنے باپ کے خون کا انصاف مانگتی رہی بلکہ کئی سال تک عدالتوں کے چکر بھی کاٹتی رہی۔ اس نے ہمت نہیں ہاری، میڈیا کے سامنے آئی، آواز بلند کی، اور اپنے حق کے لیے ڈٹی رہی۔ مگر افسوس، طویل عدالتی کارروائی کے بعد جب فیصلہ آیا تو عدالت نے تمام ملزمان کو بری کر دیا۔
یہ فیصلہ صرف ایک کیس کا انجام نہیں بلکہ ایک سوالیہ نشان ہے—کیا واقعی ہمارے نظام میں غریب کے لیے انصاف موجود ہے؟ جب ایک بیٹی اپنے باپ کے قاتلوں کو سزا دلوانے میں ناکام رہتی ہے، تو یہ صرف اس کی ذاتی شکست نہیں بلکہ پورے معاشرے اور نظام کی ناکامی ہے۔
ہمارے عدالتی نظام میں تاخیر، گواہوں کا مکر جانا، تفتیش میں کمزوریاں، اور طاقتور افراد کا اثر و رسوخ ایسے عوامل ہیں جو انصاف کی راہ میں بڑی رکاوٹ بنتے ہیں۔ ایک غریب آدمی کے پاس نہ تو مہنگے وکیل کرنے کی استطاعت ہوتی ہے اور نہ ہی وہ برسوں تک کیس لڑنے کی سکت رکھتا ہے۔ نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ اکثر مظلوم تھک ہار کر خاموش ہو جاتے ہیں یا پھر انصاف کی امید ہی چھوڑ دیتے ہیں۔
تاہم یہ بھی حقیقت ہے کہ پاکستان میں ایسے کئی کیسز بھی موجود ہیں جہاں انصاف ملا، مگر ان کی تعداد کم ہے اور وہ اکثر غیر معمولی حالات یا شدید عوامی دباؤ کے نتیجے میں سامنے آتے ہیں۔ اس سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ انصاف کا دروازہ مکمل طور پر بند نہیں، مگر عام آدمی کے لیے اس تک پہنچنا انتہائی مشکل ضرور ہے۔
سپریم کورٹ آف پاکستان اور دیگر عدالتی اداروں کی ذمہ داری ہے کہ وہ نہ صرف انصاف فراہم کریں بلکہ ایسا نظام بھی تشکیل دیں جو ہر شہری کے لیے یکساں اور قابلِ رسائی ہو۔ قانون کی بالادستی اسی وقت ممکن ہے جب امیر اور غریب کے درمیان فرق ختم ہو اور ہر فرد کو یکساں انصاف ملے۔
ہمیں بطور قوم یہ سوچنا ہوگا کہ اگر آج ام رباب کو انصاف نہیں ملا تو کل یہ کہانی کسی اور کے گھر کی ہو سکتی ہے۔ انصاف صرف عدالتوں کی ذمہ داری نہیں بلکہ معاشرے کے ہر فرد کا فرض ہے کہ وہ سچ کا ساتھ دے، ظلم کے خلاف آواز بلند کرے اور ایک ایسا نظام بنانے میں کردار ادا کرے جہاں کسی مظلوم کو سالوں دربدر نہ ہونا پڑے۔
پاکستان میں غریب کو انصاف مل سکتا ہے، مگر اس کے لیے نظام میں اصلاحات، دیانتداری، اور اجتماعی شعور کی اشد ضرورت ہے۔ جب تک ہم انصاف کو صرف ایک نعرہ سمجھتے رہیں گے، تب تک ام رباب جیسے واقعات ہمیں جھنجھوڑتے رہیں گے۔

Tags :

Share :

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

انجینئر علی رضوان چوہدری

انجینئر علی رضوان چوہدری

انجینئر علی رضوان چوہدری ایک مصنف ہیں جو اپنی تحریروں کے ذریعے امید، حوصلے اور زندگی کا مثبت پیغام دیتے ہیں۔

All Posts

Latest Post