علم اور ادب

  • علم اور ادب
    تحریر: انجینیئر علی رضوان چوہدری
    علم اور ادب کسی بھی معاشرے کی ترقی کے لیے لازم اور ملزوم ہے ۔علم اور ادب کے بغیر کوئی بھی معاشرہ ترقی کی منازل نہیں طے کر سکتا ۔
    علم اور ادب انسانی تہذیب کے وہ دو روشن ستون ہیں جن پر فکری، اخلاقی اور معاشرتی ترقی کی پوری عمارت کھڑی ہے۔ علم انسان کو شعور عطا کرتا ہے، اسے حقیقت اور فریب، حق اور باطل، ترقی اور زوال کے فرق سے آگاہ کرتا ہے، جبکہ ادب اسی علم کو احساس، حسن، تہذیب اور شائستگی کے قالب میں ڈھال کر دلوں تک پہنچاتا ہے۔ اگر علم دماغ کو روشنی دیتا ہے تو ادب دل کو حرارت بخشتا ہے اور جب یہ دونوں باہم مل جائیں تو ایک متوازن باوقار اور مہذب معاشرہ جنم لیتا ہے۔
    علم دراصل سوال کرنے سوچنے اور سمجھنے کا نام ہے۔ یہ انسان کو کائنات کے اسرار قدرت کے قوانین اور زندگی کے نشیب و فراز سے روشناس کراتا ہے۔ علم ہی ہے جو انسان کو حیوانی سطح سے اٹھا کر اشرف المخلوقات کے مقام تک لے جاتا ہے۔ تاریخ گواہ ہے کہ جن قوموں نے علم کو اپنا شعار بنایا وہ دنیا میں قیادت کی مسند پر فائز ہوئیں، اور جنہوں نے جہالت کو گلے لگایا وہ زوال، پسماندگی اور غلامی کا شکار ہو گئیں۔ علم انسان کو صرف روزگار نہیں دیتا بلکہ اسے فہم بصیرت اور ذمہ داری کا احساس بھی عطا کرتا ہے۔ادب، علم کا وہ حسین اظہار ہے جو لفظوں کے ذریعے انسانی احساسات تجربات اور مشاہدات کو محفوظ کرتا ہے۔ ادب انسان کے اندر چھپے جذبات کو زبان دیتا ہے، دکھ کو آواز اور خوشی کو مسکراہٹ میں ڈھالتا ہے۔ ادب صرف کہانی، نظم یا شاعری کا نام نہیں بلکہ یہ تہذیب، اخلاق اور معاشرتی اقدار کی ترجمانی بھی کرتا ہے۔ ایک زندہ قوم کا ادب ہمیشہ زندہ رہتا ہے کیونکہ اس میں اس قوم کی روح بولتی ہے۔ ادب ہی ہے جو ہمیں ماضی سے جوڑتا، حال کا شعور دیتا اور مستقبل کی سمت متعین کرتا ہے۔علم اگر سمت دیتا ہے تو ادب اس سمت کو خوشگوار بناتا ہے۔ محض علم انسان کو خشک، سخت اور بے لچک بنا سکتا ہے، جبکہ ادب اس علم میں نرمی، برداشت اور حسن پیدا کرتا ہے۔ اسی لیے کہا جاتا ہے کہ تعلیم اگر ادب سے خالی ہو تو وہ محض معلومات کا انبار بن جاتی ہے، اور ادب اگر علم سے عاری ہو تو وہ جذباتیت کا شکار ہو جاتا ہے۔ ایک متوازن شخصیت وہی ہوتی ہے جس میں علم کی گہرائی اور ادب کی لطافت یکجا ہو۔
    اسلامی تاریخ میں علم اور ادب کو غیر معمولی مقام حاصل رہا ہے۔ قرآن مجید کی پہلی وحی ہی اقرأ یعنی پڑھنے کے حکم سے نازل ہوئی، جو علم کی اہمیت کا واضح ثبوت ہے۔ ساتھ ہی نبی کریم ﷺ کی سیرت ہمیں ادب اخلاق اور حسنِ سلوک کا اعلیٰ نمونہ پیش کرتی ہے۔ اسلامی تہذیب میں علما کے ساتھ ادبا شعرا اور مفکرین کو بھی ہمیشہ عزت و احترام کی نگاہ سے دیکھا گیا۔ بغداد، قرطبہ اور دمشق جیسے علمی مراکز اس بات کی روشن مثال ہیں کہ جب علم اور ادب ایک ساتھ پروان چڑھیں تو تہذیب عروج پاتی ہے۔بدقسمتی سے آج کے دور میں ہم علم اور ادب دونوں سے بتدریج دور ہوتے جا رہے ہیں۔ تعلیمی ادارے ڈگریوں کی فیکٹریاں بن چکے ہیں جہاں علم کو محض روزگار کے حصول کا ذریعہ سمجھا جاتا ہے، جبکہ ادب، اخلاق اور کردار سازی کو ثانوی حیثیت دی جاتی ہے۔ نتیجتاً ہمارے پاس تعلیم یافتہ تو بہت ہیں مگر باادب، بردبار اور باشعور افراد کم ہوتے جا رہے ہیں۔ سوشل میڈیا اور ڈیجیٹل دنیا نے معلومات کی فراوانی تو پیدا کر دی ہے مگر مطالعہ غور و فکر اور ادب کے ذوق کو شدید نقصان پہنچایا ہے۔
    ادب کا زوال دراصل معاشرتی زوال کی علامت ہے۔ جب گفتگو میں شائستگی نہ رہے، اختلاف میں برداشت ختم ہو جائے، اور قلم ذمہ داری سے خالی ہو جائے تو معاشرہ انتشار، نفرت اور بے حسی کا شکار ہو جاتا ہے۔ ادب ہمیں اختلاف کے آداب سکھاتا ہے، ہمیں یہ احساس دلاتا ہے کہ دوسرے کی رائے کا احترام بھی مہذب معاشرے کی بنیاد ہے۔ یہی وجہ ہے کہ بڑے ادیب اور مفکر ہمیشہ معاشرے کے نباض ہوتے ہیں، جو وقت سے پہلے بیماری کی نشاندہی کر دیتے ہیں۔
    آج ہمیں ازسرِنو علم اور ادب کے رشتے کو مضبوط کرنے کی ضرورت ہے۔ تعلیمی نصاب میں صرف سائنسی اور فنی مضامین ہی نہیں بلکہ ادب، فلسفہ، تاریخ اور اخلاقیات کو بھی مرکزی حیثیت دی جانی چاہیے۔ بچوں کو شروع سے مطالعے کی عادت سوال کرنے کا حوصلہ اور اظہارِ خیال کا سلیقہ سکھایا جائے۔ گھروں میں کتاب دوستی کو فروغ دیا جائے اور اساتذہ کو محض استاد نہیں بلکہ مربی کا کردار ادا کرنا چاہیے۔علم اور ادب کا امتزاج ہی ایک روشن، پرامن اور ترقی یافتہ معاشرے کی ضمانت ہے۔ یہی امتزاج ہمیں شدت پسندی، عدم برداشت اور فکری جمود سے نکال سکتا ہے۔ ایک ایسا فرد جو علم سے آگاہ اور ادب سے آراستہ ہو، وہ نہ صرف خود سنورتا ہے بلکہ اپنے اردگرد کے ماحول کو بھی بہتر بناتا ہے۔ قوموں کی تعمیر اینٹوں اور عمارتوں سے نہیں بلکہ علم و ادب سے ہوتی ہے۔
    علم انسان کو طاقت دیتا ہے اور ادب اسے حسنِ استعمال سکھاتا ہے۔ علم بغیر ادب کے تلوار ہے اور ادب بغیر علم کے چراغ، مگر جب تلوار کو چراغ کی روشنی میسر آ جائے تو انصاف، ترقی اور امن کا راستہ ہموار ہو جاتا ہے۔ ہمیں بطور فرد اور بطور قوم یہ عہد کرنا ہوگا کہ ہم علم کے حصول کے ساتھ ادب کو بھی اپنا شعار بنائیں گے، کیونکہ یہی وہ راستہ ہے جو ہمیں ایک باوقار، مہذب اور روشن مستقبل کی طرف لے جاتا ہے۔

Tags :

Share :

One Response

Leave a Reply to Ahmad Tipu Cancel reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

انجینئر علی رضوان چوہدری

انجینئر علی رضوان چوہدری

انجینئر علی رضوان چوہدری ایک مصنف ہیں جو اپنی تحریروں کے ذریعے امید، حوصلے اور زندگی کا مثبت پیغام دیتے ہیں۔

All Posts

Latest Post